11 جون 2026 - 21:49
حصۂ اول | ایران کی طرف سے 'سمندروں کے نمبردار کی نقصان دہ آزادی' کے لئے قائم کردہ رکاوٹیں

امریکی-صہیونی ریاستوں کی مسلط کردہ جنگ دھیرے دھیرے عالمگیر ہو رہی ہے؛ ایسی جنگ جو ایران میں نظام کی تبدیلی کے مقصد سے ترتیب دی گئی تھی، لیکن اس نے بین الاقوامی نظام کو ہی بدل دیا ہے؛ اور [مغرب کے ہاں کا غیر مطلوبہ] نتیجہ یہ ہؤا کہ طاقت کی مغرب سے مشرق منتقلی کے لئے ماحول سازی ہوئی، جس کے اجزاء اور بنیادیں عیاں ہو چکی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دھندلاہٹ کا شکار ہونے والی بین الاقوامی ترتیب میں اس تبدیلی کا پہلا اثر امریکہ سپرپاور کے تین ستونوں (اور تین خصوصیات) کا خاتمہ ہے:

1- تکمیل کاری کی قوت (آخری بات کرنے کی صلاحیت)

بڑی طاقت کے پاس بحرانوں کے خاتمے یا فیصلوں میں حرف آخر (اور Decisive statement) کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ اگر عالمی تغیرات اور واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں یہ خصوصیت شدت سے کم ہو گئی ہے۔

2- اتحادیوں کا اتفاق رائے بنانے کی طاقت

بڑی طاقت کے پاس یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے درمیان بعض معاملات پر اتحاد بنا سکے۔ وائٹ ہاؤس آبنائے ہرمز کے بحران میں یورپی ممالک کو، ـ جو واشنگٹن کے روایتی اتحادی ہیں، یا حتیٰ کہ مشرق بعید کے ان ممالک کو، جن کی سیکورٹی امریکہ کے ایٹمی چھتری تلے تعریف ہوئی ہے ـ اپنے ساتھ ملانے میں ناکام رہا۔

3- رقیب قوتوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی صلاحیت

بڑی طاقتوں کا ہنر یہ ہے کہ وہ مراعات دے کر یا دھمکی دے کر، حریفوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایران، روس اور چین امریکہ کے تین دشمن یا کم از کم رقیب اور حریف ہیں لیکن وائٹ ہاؤس نہ صرف ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ وہ تینوں اسٹراٹیجک شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے بہت سے مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کو "پرانی عالمی ترتیب" واپس لانے کا وہم ترک کر دینا چاہئے۔ پابندیوں کی پالیسی، جو پچھلی تین دہائیوں کے دوران اہداف کے حصول کے لئے امریکی رجیم کا طاقتورترین ہتھیار تھی، اب مطلوبہ افادیت کھو چکی ہے یا بہت زیادہ رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ اس تبدیلی کے کچھ نتائج برآمد ہوئے ہیں:

الف: آبنائے ہرمز، دروازے دار سمندروں کا شروع

اسلامی جمہوریہ ایران نے سو دن سے زائد عرصے سے آبنائے ہرمز پر اپنی حکمرانی قائم کر رکھی ہے۔ گذرنے والے جہازوں کو خلیج فارس کے آبی گذرگاہ کے انتظامی ادارے کو جہاز کی نوعیت، کارگو اور جہاز کی ملکیت کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں تاکہ سپاہ پاسداران کی بحریہ انہیں مخصوص راستے سے گذرنے کی اجازت دے سکے۔

اس نئی ترتیب میں، "دروازے دار سمندر" "آزاد سمندروں" کی جگہ لے رہے ہیں تاکہ امریکہ آزادانہ طور پر خودمختار ممالک کے مفادات کو خطرے میں نہ ڈال سکے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ڈاکٹر حسن عابدینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha